• user warning: Table './saafi_net/safi_cache_block' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM safi_cache_block WHERE cid = 'book:0:safi:ur:r.1:http://safi.ir/ur' in /home/saafi.net/saafi.net/includes/cache.inc on line 26.
  • user warning: Table './saafi_net/safi_cache_block' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE safi_cache_block SET data = 'a:0:{}', created = 1283444905, expire = -1, headers = '', serialized = 1 WHERE cid = 'book:0:safi:ur:r.1:http://safi.ir/ur' in /home/saafi.net/saafi.net/includes/cache.inc on line 109.
  • user warning: Table './saafi_net/safi_cache_block' is marked as crashed and should be repaired query: SELECT data, created, headers, expire, serialized FROM safi_cache_block WHERE cid = 'webformblock:3815:safi:ur' in /home/saafi.net/saafi.net/includes/cache.inc on line 26.
  • user warning: Table './saafi_net/safi_cache_block' is marked as crashed and should be repaired query: UPDATE safi_cache_block SET data = 'a:2:{s:7:\"subject\";s:8:\"سوال\";s:7:\"content\";s:4009:\"<a name=\"node3815\"></a><div class=\"Post\">\n<div class=\"Post-body\">\n<div class=\"Post-inner\">\n<div class=\"PostContent\">\n<div class=\"PostContent2\">\n<h2 class=\"PostHeaderIcon-wrapper\"> <span class=\"PostHeader\"><a href=\"/ur/node/3815\" title=\"\"></a></span>\n</h2>\n<!---\n<div class=\"PostMetadataHeader\">\n<div class=\"PostHeaderIcons metadata-icons\">\n<img class=\"metadata-icon\" src=\"/themes/safi/images/PostDateIcon.png\" width=\"17\" height=\"18\" alt=\"PostDateIcon\"/> February 5th, 2010 | <img class=\"metadata-icon\" src=\"/themes/safi/images/PostAuthorIcon.png\" width=\"14\" height=\"14\" alt=\"PostAuthorIcon\"/> admin</div>\n</div>\n--->\n<div class=\"article\"><span class=\'print-link\'></span><form action=\"/ur/frontpage#node3815\" accept-charset=\"UTF-8\" method=\"post\" id=\"webform-client-form-3815\" class=\"webform-client-form\" enctype=\"multipart/form-data\">\n<div><div class=\"webform-component-textfield\" id=\"webform-component-name\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-name-wrapper\">\n <label for=\"edit-submitted-name\">نام: </label>\n <input type=\"text\" maxlength=\"128\" name=\"submitted[name]\" id=\"edit-submitted-name\" size=\"60\" value=\"\" class=\"form-text\" />\n</div>\n</div><div class=\"webform-component-email\" id=\"webform-component-mail\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-mail-wrapper\">\n <label for=\"edit-submitted-mail\">ای میل ایڈریس: </label>\n <input type=\"text\" maxlength=\"128\" name=\"submitted[mail]\" id=\"edit-submitted-mail\" size=\"60\" value=\"\" class=\"form-text\" />\n</div>\n</div><div class=\"webform-component-textfield\" id=\"webform-component-age\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-age-wrapper\">\n <label for=\"edit-submitted-age\">سن: </label>\n <input type=\"text\" maxlength=\"128\" name=\"submitted[age]\" id=\"edit-submitted-age\" size=\"60\" value=\"\" class=\"form-text\" />\n</div>\n</div><div class=\"webform-component-select\" id=\"webform-component-tahsilat\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-tahsilat-wrapper\">\n <label for=\"edit-submitted-tahsilat\">تعلیم: </label>\n <select name=\"submitted[tahsilat]\" class=\"form-select\" id=\"edit-submitted-tahsilat\" ><option value=\"\" selected=\"selected\">select...</option><option value=\"1\">diplom</option></select>\n</div>\n</div><div class=\"webform-component-select\" id=\"webform-component-jensiyat\"><div class=\"form-item\">\n <label>جنس: </label>\n <div class=\"form-radios\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-jensiyat-1-wrapper\">\n <label class=\"option\" for=\"edit-submitted-jensiyat-1\"><input type=\"radio\" id=\"edit-submitted-jensiyat-1\" name=\"submitted[jensiyat]\" value=\"1\" class=\"form-radio\" /> مرد</label>\n</div>\n<div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-jensiyat-2-wrapper\">\n <label class=\"option\" for=\"edit-submitted-jensiyat-2\"><input type=\"radio\" id=\"edit-submitted-jensiyat-2\" name=\"submitted[jensiyat]\" value=\"2\" class=\"form-radio\" /> عورت</label>\n</div>\n</div>\n</div>\n</div><div class=\"webform-component-textarea\" id=\"webform-component-quastion\"><div class=\"form-item\" id=\"edit-submitted-quastion-wrapper\">\n <label for=\"edit-submitted-quastion\">سوال: </label>\n <textarea cols=\"60\" rows=\"5\" name=\"submitted[quastion]\" id=\"edit-submitted-quastion\" class=\"form-textarea resizable\"></textarea>\n</div>\n</div><input type=\"hidden\" name=\"details[email_subject]\" id=\"edit-details-email-subject\" value=\"default\" />\n<input type=\"hidden\" name=\"details[email_from_name]\" id=\"edit-details-email-from-name\" value=\"1\" />\n<input type=\"hidden\" name=\"details[email_from_address]\" id=\"edit-details-email-from-address\" value=\"4\" />\n<input type=\"hidden\" name=\"form_build_id\" id=\"form-1e52a838e39f457424e766c3db2ccb1f\" value=\"form-1e52a838e39f457424e766c3db2ccb1f\" />\n<input type=\"hidden\" name=\"form_id\" id=\"edit-webform-client-form-3815\" value=\"webform_client_form_3815\" />\n<input type=\"submit\" name=\"op\" id=\"edit-submit\" value=\"Submit\" class=\"form-submit\" />\n\n</div></form>\n</div>\n\n<div class=\"cleared\"></div>\n<div class=\"PostMetadataFooter\">\n<div class=\"PostFooterIcons metadata-icons\">\n \n</div>\n\n</div>\n\n</div>\n</div>\n</div>\n</div>\n</div>\n\";}', created = 1283444906, expire = -1, headers = '', serialized = 1 WHERE cid = 'webformblock:3815:safi:ur' in /home/saafi.net/saafi.net/includes/cache.inc on line 109.

جدید عناوین

ولادت با سعادت امام زین العابدین علیہ السلام (۵ شعبان المعظم )

خدایا ! میں تجھ سے نا امید نہیں ہوں کہ تو نے توبہ کا دروازہ ہم پر کھلا رکھا ہے ۔
میں اس ذلیل بندہ کی طرح بات کر رہا ہوں جس نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے اور اپنے پروردگار کی حرمت کا پاس نہ رکھا ہو ۔
جس کے گناہ بہت زیادہ ہیں اور اس کی زندگی رو بہ زوال ہے ۔
جس وقت اس کی آنکھ کھلی تو عمل کا وقت گزر چکا ہے اور عمر کے آخری ایام آپہنچے ہیں ۔
۔۔۔ وہ گناہگار گریہ و زاری کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں آیا ہے اور تیرے سامنے بصد خلوص توبہ کر رہا ہے ، پاک دل کے ساتھ تیرے سامنے کھڑا ہے اور آہ و فریاد اور حزین آواز کے ساتھ تجھے پکار رہا ہے ۔
تیرے خوف کی شدت سے اس کے پاؤں لرز رہے ہیں اور آنسووں سے اس کے رخسار تر ہیں ۔
اور یا ارحم الراحمین کہہ کر تجھے پکار رہا ہے ۔
(امام سجاد علیہ السلام کی مناجات کے کلمات ، صحیفہ سجادیہ، دعا/۶۶)
دلچسپ حکایت
ایک شخص امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا ، امام نے اس سے خیریت پوچھی اس نے کہا ، میری صبح اس حالت میں ہوئی کہ میں چار سو دینار کا مقروض ہوں اور اس کی ادائگی کی قدرت نہیں رکھتا ہوں ، کثیر العیال ہوں اور ان کا نفقہ میری توان سے باہر ہے ۔
امام سجاد علیہ السلام اس آدمی کی مشکل سن کر بہت غمگین ہوئے اور بہت روئے ، آپ سے پوچھا گیا :کیا آپ کا گریہ اس کی مشکلات و مصائب کی وجہ سے نہیں تھا ؟
فرمایا : بیشک! ایسا ہی ہے ، اس سے بڑی مصیبت کیا ہوگی کہ ایک صاحب ایمان اپنے برادر مومن کو فقیر و ہاتھ خالی دیکھے لیکن اس کی مشکلات کو برطرف نہ کر سکتا ہو۔
پھر اسے آدمی کو دو روٹی دی اور فرمایا : اس دو روٹی کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے ، خداوند اسی دو روٹی کے ذریعہ تمہاری زندگی میں وسعت عطا کرے گا ۔
وہ آدمی روٹی لے کر گریہ کناں بازار کی طرف گیا ، راستے میں ایک مچھلی بیچنے والا اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : یہ تازہ مچھلی ایک سوکھی روٹی کے بدلے لے لو ۔
اس آدمی نے مچھلی لے لی اور اسے ایک روٹی دے دی ، تھوڑی دور چلا تھا کہ ایک نمک بیچنے والا ملا اس نے کہا : یہ ناچیز نمک ہم سے لے لو اور ہمیں ایک روٹی دے دو ۔
اس آدمی نے ایک روٹی دے کر اس سے نمک لے لیا اور نمک اور مچھلی لے کر گھر آگیا ۔
گھر میں جب اس نے مچھلی کا پیٹ چیرا تو اس میں سے دو موتی نکلے ، یہ دیکھتے ہی وہ آدمی سجدہ شکر بجا لایا ۔ پھر اس آدمی نے دونوں موتی مہنگے داموں میں بیچ کر اس سے حاصل ہونے والی ثروت سے اپنی زندگی کو سر و سامان بخشا ۔
(مناقب ابن شہر آشوب ، ج/۴،ص/ ۱۴۶)
ابو حمزہ ثمالی امام سجاد علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :
ما مِن قَطرَةٍ اَحَبُّ إِلَي الله عزوجل مِن قَطرَتَينِ قَطرَه دَم في سبيل الله و قَطره دَمعِهِ في سَوادِ اللَّيلِ لا يُريدُ بِها العَبدُ الاّ اللهَ عَزّوجلّ
ترجمہ : کوئی بھی قطرہ خدا کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، ایک وہ خون کا قطرہ جو راہ خدا میں گرے اور دوسرا اشک کا وہ قطرہ جو رات کی تاریکی میں بندے کی آنکھوں سے خدا کے لئے نکلتا ہے ۔
(بحار الانوار ، ج/۱۰۰، ص/۱۰)

معرفت حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام

(۴ شعبان ، ولادت باسعادت حضرت ابوالفضل العباس (ع) مبارک باد )
سلام الله و سلام ملائكته المقربين و انبيائه المرسلين و عباده الصالحين... عليك يابن امير المؤمنين
تم پر خدا کا سلام ہو اور مقرب ملائکہ ، انبیاء مرسلین اور صالح بندوں کا درود ہو آپ پر اے فرزند امیرالمومنین(ع)
زیارت صرف ایک ورد نہیں ہے جس کو زبان سے دہرایا جائے بلکہ یہ تفکر ہے ۔ ان نورانی کلمات کے درمیان معرفت کا ایک دریان موجزن ہے جو سب کو اپنی طرف دعوت دیتا ہے ۔
زیارتوں کا آغاز درود وسلام سے ہوتا ہے ، اس کا آغاز عالم ہستی کی سب سے مقدس ذات سے ہوتا ہے جس میں خداوند عالم سے لے کر ملائکہ مقرب ، انبیاء اوصیا، اور صالح بندے سب شامل ہیں اور اس درود کا مخاطب بھی خدا کے بندوں میں سے ایک صالح بندہ ہے ۔ مکتب کربلا کا سب سے ممتاز شاگرد ۔
اشهد انك بالتسليم و التصديق و الوفاء و النصيحة لخلف النبي
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے جانشین پیغمبر کی تصدیق کی ، ان کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور حق وفا ادا کر دیا ۔
اگر زائر کا سلام صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ہو تو شہادت کے یہ کلمات اس کے دل و جان سے جاری ہوتے ہیں ۔
زیارت میں زائر اپنے اعتقادات کی تصدیق کرتا ہے اور حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی زیارت مٰیں ان کی وفاداری کا اقرار کرتا ہے اور کربلا کے اس تشنہ لب سپاہی کی خیر خواہی کی تصدیق کرتا ہے ۔ ولی خدا کے سامنے تسلیم و رضا کی صفت حضرت ابوالفضل العباس (ع) کی ذات مٰیں موجزن ہے اور یہ ساری صفات زائر کی آنکھوں کے سامنے ایک مکمل نمونہ عمل کو پیش کرتی ہیں ۔ زیارت کا مقصد معرفت کا حصول اور دل کی کشادگی ہے ۔
 

امام حسین علیہ السلام وارث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں

امام حسن و امام حسین علیہما السلام علمی ، اخلاقی اور روحی و جسمی کمالات میں پیغمبر اکرم (ص)کے وارث تھے ۔ لوگ ان کی رفتار و گفتار کے آئینہ میں پیغمبر (ص) کو دیکھتے تھے اور ان(ص) کی عظمت و روحانیت کا نظارہ کرتے تھے ۔ جیسا کہ بارہا بیان کیا گیا کہ پیغمبر اکرم (ص) حسنین (ع) کے ساتھ بہت ہی محبت و شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے انھیں دوست رکھتے اور انھیں چومتے تھے ، ان کی زبان کو چوستے، انھیں اپنے کاندھوں پر بٹھاتے، ان کا بیحد خیال رکھتے تھے اور انھیں اپنا بیٹا کہتے تھے ۔ وہ روتے تو آپ(ص) غمگین ہو جاتے تھے ۔ انھیں اپنے سینے پر سلاتے اور ان کا نام سنتے ہی آپ پر سرور کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی ۔ گلی ،کوچے میں ، گھر میں ،صحابہ کے درمیان ، گفتگو کے وقت خطبہ کے وقت ، نماز کے درمیان ہر حال میں پیغمبر (ص) ان پر لطف و مہربانی فرماتے تھے ۔
اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود روایات پیغمبر اکرم (ص) کی محبتوں کا بیان ہیں ۔ پیغمبر (ص) کی یہ مہربانیاں ایک طرف تو پیغمبر اسلام کے تواضع و خاکساری اور سادہ زیستی کو بیان کرتی ہیں اور دوسری طرف حسنین علیہما السلام اور فاطمہ زہرا(س) کے ساتھ آپ کی شدید محبت اور عطوفت کی نشاندہی کرتی ہیں ۔ پیغمبر اکرم(ص) جو ہر کمال میں حد اعتدال ہیں اور استقامت کا نمونہ ہیں ، کسی کی محبت و خوشنودی آپ کو سچائی بیان کرنے سے نہیں روک سکتی اور حقیقت بیان کرنے سے مانع نہیں ہو سکتی ، اس لئے آپ کی یہ محبتیں اور مہربانیاں سب حسنین علیہما السلام کی لیاقت اور صلاحیت کی دلیل ہیں ۔ اس لئے کہ آپ(ص) جو باتیں ان کے متعلق فرماتے تھے یا جو اوصاف ان کے لئے بیان کرتے تھے یہ سب جذبات و احساسات کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) ان کے وجود میں کسی پوشیدہ راز کا مشاہدہ کر رہے تھے ۔
حدیث ثقلین ، حدیث ائمہ اثنا عشر اور حدیث سفینہ یا دیگر احادیث جن کو ہم نے اپنی کتاب "اثبات حجیت فقہ شیعہ " میں بیان کیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ فرقہ امامیہ کی احادیث کی طرف مراجعہ کرنا واجب ہے اور وہاں پر ہم نے تمام احادیث کے اسناد کی صحت و دلالت کو بھی بیان کیا ہے، ان کے مطابق امام حسن و حسین علیہما السلام علوم پیغمبر کے وارث ہیں اور یہ دونوں اپنے اپنے زمانے میں اسلام کے حقیقی رہبر و شریعت کے اصلی محافظ تھے ۔
امام ، وصی اور پیغمبر کے جانشین کی ایک بارز صفت یہ ہے کہ وہ تمام امور میں حد اعتدال پر ہوتا ہے ۔ در حقیقت امام وہ نقطہ اعتدال ہے جس کی طرف حقیقت کے جستجو گر اور کند رفتار لوگ لائے جاتے ہیں تاکہ وہ کاروان حقیقت سے دور نہ رہ جائیں اور ان کا فاصلہ خداپرستوں کے پیشوا اور رہبر سے زیادہ نہ ہونےپائے اور جو لوگ افراط کا شکار ہیں اور بہت تیز رفتار ہیں انھیں بھی اسی نقطہ کی طرف پلٹایا جاتا ہے تاکہ یہ بیجا تیزرفتاری ان کو گمراہ نہ کر دے ۔ اسی مضمون کو پیغمبر اکرم (ص) کی اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے ۔ " فَلا تُقَدِّمُو هُما فَتُهْلِكُوا وَ لا تَقْصُروُا عَنْهُما فَتُهْلِكُوا وَ لا تُعَلِّمُوهُمْ فَاِنَّهُمْ اَعْلَمُ مِنْكُمْ “
ان سے آگے نہ جانا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے ان سے پیچھے بھی نہ رہ جانا اور تم انھیں کوئی تعلیم نہ دینا چونکہ وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں ۔
اس لئے امام حسین علیہ السلام بلا شبہہ علم وکمالات پیغمبر (ص) کے حقیقی وارث ہیں اور تمام لوگ آنحضرت کے علم و حکمت کے محتاج تھے ۔
معتبر کتابوں میں موجود متعدد روایات میں منقول ہے کہ جناب فاطمہ زہرا(س) اپنے والد کے مرض الموت کے وقت حسن و حسین علیہما السلام کو لے کر آپ(ص) کے پاس آئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ یہ دونوں آپ کے فرزند ہیں لہذا انھیں کچھ عطا کریں یا انھیں کوئی میراث عطا فرمائیں ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں اپنی عظمت و حشمت حسن کو دوں گا اور حسین کو جود و مہربانی عطا کروں گا ۔
نیز دیگر روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ان (حسن) کو اپنی ہیبت و علم عطا کیا اور اُن(حسین ) کو اپنی محبت ، رضا عطا کیا ، ایک اور روایت میں ہے کہ : حسن کے لئے ہماری ہیبت و سرداری ہے اور حسین کے لئے جرأت اور شہامت ۔ ۱
ان احادیث میں حسنین علیہماالسلام کے ان کمالات و اخلاق کا صرف ایک گوشہ بیان کیا گیا ہے جنہیں انھوں نے پیغمبر(ص) سے ورثہ میں پایا ہے ۔
ان تعبیرات میں امام حسن و حسین علیہماالسلام کی روش ان کی رہبری اور ان کے آئندہ کے لائحہ عمل کے ساتھ ساتھ ان کے تمام اعمال کی تصدیق کی گئی ہے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کی روش دینی تکلیف کی بنیاد پر ہے جسے پیغمبر اکرم (ص) نے تعلیمات وحی کی بنیاد پر انھیں تعلیم دیا ہے اور دونوں کی روش پیغمبر کی سیرت سے جدا نہیں ہے بلکہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام اخلاقی کمالات میں دونوں اپنے جد پیغمبر کے وارث ہیں اور دین و قرآن کے محافظ ہیں ۔
۱۔ نظم درر السمطین ، ص/۲۱۲؛ الاصابہ ، ج/۴،ص/۳۱۶؛ ذخائر العقبیٰ ، ص/۱۲۹ ، صواعق ، ص/۱۸۹،و کفایۃ الطالب ، ص/۲۷۷
پرتوی از عظمت امام حسین علیہ السلام، ص/۶۲ ؛ تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی دامت برکاتہ
 

بعثت رسول اکرم (ص) پر خصوصی اشاعت

اللهم صل علی محمّد و آل محمد
پروردگارا! عید سعید بعثت کا واسطہ ،اس کریم و مہربان آقا کے طفیل میں محمد و آل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما۔
اس رات اور دیگر راتوں میں ہمارے اعمال کو قبول فرما۔
ہمارے گناہوں کی مغفرت فرما ، ہمارے نیک اعمال کی بہترین جزا عنایت فرما اور ہمارے برے اعمال سے درگزر فرما ۔
ہمارے قلوب کو امید بخش کلمات سے شاد فرما اور ہماری رزق و روزی میں اضافہ فرما ! ( دعائے شب بعثت سے اقتباس )
سوال و جواب
سوال : پیغمبر اکرم (ص) کا اس عہدے کا لئے انتخاب کسبی ہے یا وہبی یا دونوں ؟
جواب : نبوت و امامت کا عہدہ خدا کی جانب سے انتخاب کیا جاتا ہے ، انتخاب اور انتصاب جو جو مفہوم آج کے عرف میں رائج ہے جس سے حکومت کی نوعیت معلوم ہوتی ہے اس عرف کا نبوت و امامت کے عہدے میں کوئی دخل نہیں ہے چونکہ اس عہدے کے انتخاب میں نہ اکثریت کا کوئی دخل ہوتا ہے نہ ہی یہ عہدہ کسی خاص فرد کی جانب سے انتخاب کیا جاتا ہے ۔
انتخاب کے ان دونوں طریقوں میں ایسے عیوب پوشیدہ ہیں جن کی وجہ سے اکثر بہترین فرد کا انتخاب نہیں ہو پاتا ہے اور یہ وہ انتخابی منصب بھی نفسانی خواہشات و دیگر مختلف اسباب سے محفوظ نہیں رہ پاتا ہے ۔ لیکن خداوند کا انتخاب رسالت یا امامت کے عہدے کے لئے صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ہوتا ہے چونکہ خداوند ہر چیز سے باخبر اور صاحب علم ہے لہذا ہمیشہ اس کا انتخاب کرتا ہے جس میں سب سے زیادہ قابلیت اور صلاحیت پائی جاتی ہے ۔
اس لئے نبوت کا عہدہ انتخاب الٰہی ہے اور خداوند سب سے لائق اور با صلاحیت فرد کا انتخاب کرتا ہے ، اس طریقہ کا انتخاب بشری طریقوں کے انتصاب یا انتخاب میں ممکن نہیں ہے چونکہ انسان نادان اور جائز الخطا ہے جبکہ خداوند عالم حکیم ،عالم ،خطاو نسیان سے منزہ ہے اور وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اسے کسی کے انتخاب سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور کسی کے انتخاب نہ کرنے سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہے ۔
(اقتباس از کتاب معارف دین ، ج/۱،ص/۶۷ تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی دامت برکاتہ)
پیغمبر اکرم(ص) کی مہر و محبت
جس وقت جنگ اُحُد میں پیغمبر اکرم(ص) کے دندان مبارک شہید ہو گئے اور آپ کا چہرہ اقدس زخمی ہو گیا تو مومنین کو اس کا بہت صدمہ ہوا اور انھوں نے حضرت سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ دشمن کے لئے بد دعا کر دیں ۔
آنحضرت نے فرمایا :
مجھے بد دعا کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ مجھے مبعوث کیا گیا ہے تاکہ میں لوگوں کو حق کی دعوت دوں ، پھر آپ نے خداوند کریم کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا : پروردگارا! میرے قوم کی ہدایت فرما ، چونکہ وہ نادان ہیں ۔( سفینۃ النبی ، ج/۱، ص/۴۱۲)
صلوات نامہ :
اللهم صل علی محمّد و آل محمد
پیغمبر اکرم (ص) : جہاں بھی رہو ہمارے اوپر درود بھیجو ، تمھارے درود ہم تک پہنچتے ہیں (کنز العمال / ۲۱۴۷)
امام علی علیہ (ع) : ہر دعا روک دی جاتی ہے جب تک کہ پیغمبر اکرم (ص) صلوات نہ بھیجی جائے (کنز العمال / ۲۱۵۳)
امام باقر (ع) : قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں رکھا جانے والا سب سے سنگین عمل محمد و آل محمد پر درود ہے ۔ (بحار الانوار ، ج/۹۴،ص/۴۹،ح/۹)
رسول خدا (ص) : سب سے بخیل وہ انسان ہے جس کے سامنے ہمارا نام لیا جائے اور وہ ہم پر درود نہ بھیجے ۔ (کنز العمال / ۲۱۴۴)

۲۵رجب المرجب شہادت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام

آپ کو حلم و بردباری ،مجرموں کے جرم کی معافی اور ظالموں کے ظلم پر صبر و عفو کرنےکی وجہ سے کاظم کہا جاتا ہے ۔
آپ دعا کرتے وقت اس قدر گریہ کرتے کہ آپ کی ریش مبارک آنسؤوں سے تر ہو جاتی تھی اسی لئے بہت سے لوگ آپ اپنی حاجت برآوری کے لئے متوسل ہوتے اور اپنی مرادیں پاتے تھے ۔ امام صلہ رحم کرنے میں سب سے پیش قدم تھے ۔
آپ مدینہ کے فقراء کی دلجوئی کرتے اور رات کی تاریکی میں خرما، آٹا اور سونے چاندی سے بھری ٹوکری لے کر مدینہ کی گلیوں میں نکلتے اور فقراء کی مدد کیا کرتے تھے (منتہی الآمال ،ص/۸۹۲)
جس وقت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ہارون رشید ملعون کے زندان میں تھے تو اس پست صفت نے ایک خوبرو کنیز زندان میں بھیجی کہ شاید امام کاظم علیہ السلام اس کی جانب رغبت کریں اور اس طرح امام علیہ السلام کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ لگ جائے ۔ پھر اس نے ایک خادم کو بھیجا تاکہ وہ حالات سے باخبر کرے ،خادم نے دیکھا کہ وہ کنیز سجدہ میں سر رکھے خداوند کی بارگاہ میں استغفار کر رہی ہے کیوں کہ امام کاظم علیہ السلام کے مناجات و دعا نے اس کا دل منقلب کر دیا تھا ۔ (منتہی الآمال ،ص/۸۹۲)
مشہور ہے کہ ایک شخص ہمیشہ امام علیہ السلام کو اذیت پہنچاتا تھا ، امام کے چاہنے والوں میں غصہ میں آکر امام علیہ السلام سے اجازت مانگی کہ اس فاجر کو قتل کر دیں ، امام کی پیشانی پر بل آ گئے اور فرمایا : مجھے بتاؤ وہ شخص کہاں ہے ؟ لوگوں نے کہا وہ مدینہ کے باہر کھیت میں کاشتکاری میں مشغول ہے ۔
امام اس کے پاس گئے تو اسے کاشتکاری میں مشغول پایا آپ اس کے پاس بیٹھ گئے اور خندہ پیشانی سے اس سے پوچھا : تم نے اس کھیت میں کتنا پیسہ لگایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : سو دینار ، آپ نے پوچھا : تمہیں اس سے کتنا فائدہ ہونے کی امید ہے ؟ اس نے جواب دیا : دو سو دینار ۔
امام نے دینار سے بھری ایک تھیلی نکالی جس میں تین سو دینار تھے اور فرمایا : یہ تین سو دینار لے لو اور یہ کھیت بھی تمہارا ہے خداوند عالم اس میں تمہاری امید سے زیادہ برکت عطا کرے گا ۔ وہ شخص اٹھا اور امام کی پیشانی کا بوسہ لے کر کہنے لگا : مولیٰ میری خطاؤں کو معاف کر دیں ۔ (منتہی الآمال ،ص/۸۹۲)
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے حکیمانہ اقوال
من کفّ نفسه عن اعراض الناس اقاله الله عثرته يوم القيامه. و من کفّ غضبه من الناس کفّ الله عنه غضبه يوم القيامه
ترجمہ: جو خود کو لوگوں پر دست درازی سے محفوظ رکھتا ہے قیامت کے دن خداوند اس کی لغزشوں کو در گزر فرمائے گا ۔ اور جو لوگوں پر غصہ کرنے سے پرہیز کرتا ہے اللہ قیامت کے دن اس پر غضبناک نہیں ہوگا ۔ (تحف العقول ،ص/۴۱۱)
من صدقه لسانه زکي عمله. و من حسنت نيته زيد في رزقه، و من حسن برّه باخوانه و اهله مدّ في عمره
ترجمہ : جو سچا ہوگا اس کا عمل پاک ہوگا جس کی نیت اچھی ہوگی اس کی روزی میں اضافہ ہوگا ، جو بھی اپنے اہل خاندان اور بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کرے گا اس کی عمر طولانی ہوگی ۔ (تحف العقول ،ص/۴۱۰)
الدنيا مثل ماء البحر کلما شرب منه العطشان ازداد عطشاً حتي يقتله
ترجمہ : دنیا کی مثال دریا کے پانی کی ہے کہ جس قدر پیاسا اسے پیتا ہے اس کی پیاس بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ پانی اسے ہلاک کر دیتا ہے ۔ (تحف العقول ،ص/۴۱۷)

ہماری حکومت اور ہمارے معاشرے دونوں کو نہج البلاغہ سے سبق لینا چاہئے : حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

۵جولائی بروز دوشنبہ بین الاقوامی نہج البلاغہ فاؤنڈیشن مرکزی کمیٹی کے چند ممبران نے اس مرکز کے چیرمین کے ہمراہ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی سے ملاقات کی نیز اس ملاقات کے دوران کتاب " کاوشی در نہج البلاغہ " کی آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کے ہاتھوں رونمائی ہوئی ۔
اس ملاقات کے دوران آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے نہج البلاغہ کی عظمت میں علماء اور بزرگان کے اقوال کو دہراتے ہوئے فرمایا : نہج البلاغہ ایسی با ارزش کتاب ہے جو ابھی تک دنیا والوں کے سامنے نا شناختہ ہے ۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کتاب کو خود پہچانیں اور پھر اسے دنیا کے سامنے پہچنوائیں ۔
مرجع عالم تشیع نے نہج البلاغہ کے تمام ابعاد کے ادراک کو بشریت کی فہم سے خارج قرار دیتے ہوئے فرمایا : ہم نہج البلاغہ کی عظمت کے لئے جو کچھ بھی کہیں یہ اس کی عظمت کا ایک مختصر سا گوشہ ہے چونکہ یہ کتاب بہت ہی گرانبہا اور باارزش ہے اس کی عظمت کا بیان اتنا آسان نہیں ہے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے نہج البلاغہ کے معارف کی دنیا بھر میں نشر و ترویج کرنے پر بین الاقوامی نہج البلاغہ فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا : اس مرکز نے اب تک بہت سے قابل قدر اقدامات کئے ہیں ان کارکردگیوں میں مزید اضافہ ہونا چاہئے ۔ اس لئے کہ نہج البلاغہ کی ترویج کے لئے جتنی بھی کوشش کی جائے کم ہے ۔
معظم لہ نے کتاب نہج البلاغہ کو شیعوں کے لئے عظیم سرمایہ بتاتے ہوئے فرمایا : نہج البلاغہ ہمارا سرمایہ اور ہماری پہچان ہے ۔ آج شیعہ نہج البلاغہ اور امیرالمومنین علیہ السلام کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔
مرجع عالیقدر نے علوم و معارف اہلبیت(ع) کے عظیم سرمایہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : شیعوں کے ہاتھوں میں نہج البلاغہ اور صحیفہ سجادیہ جیسا عظیم علمی ذخیرہ موجود ہے ، اسے دنیا کے سامنے پہچنوانا چاہئے لیکن افسوس کہ یہ عظیم ذخیرے ابھی پس پردہ ہیں اور خود مسلمانوں کے درمیان بھی نا شناختہ ہیں ۔
انھوں نے معاشرے میں نہج البلاغہ کی ترویج پر زور دیتے ہوئے کہا : نہج البلاغہ کی ہمارے علمی ، ثقافتی اور حوزوی معاشرے میں اچھی طرح ترویج ہونی چاہئے تاکہ سب اسے پہچانیں اور اس کتاب کی مظلومیت کا خاتمہ ہو سکے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے شیخ کلینی (رہ) کے ایک بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اگر تمام علماء اور تمام انسان اکٹھا ہوکر نہج البلاغہ کی عظمت بیان کرنا چاہیں تو بھی اس کی عظمت و اہمیت کو نہیں بیان کرسکتے۔
آپ نے فرمایا : ہم ابھی نہج البلاغہ کی اس نعمت کا شکریہ ادا نہیں کر سکے ہیں اور اس سلسلے میں غفلت کا شکار رہے ہیں ۔ ہمیں اس کی جانب مزید توجہ کرنی چاہئے اور ہمارے معاشرے اور ہماری حکومت دونوں کو اس کتاب سے سبق لینا چاہئے ۔
معظم لہ نے بشریت کو نہج البلاغہ کے فضائل کے بیان سے عاجز بتاتے ہوئے فرمایا : جو بھی نہج البلاغہ کا مطالعہ کرے ، اسے پہچاننا چاہے اسے اس کی عظمت کو دیکھ کر سخت حیرانی ہوگی اور اگر ہم اسے دنیا کے سامنے پہچنوائیں تو لوگ اس کتاب کا دل کھول کر استقبال کریں گے ۔
مرجع عالم تشیع نے فرمایا : آج ہمارے دین و سیاست کو نہج البلاغہ سے سبق سیکھنا چاہئے ، ہمارے معاشرے کا اخلاق نہج البلاغہ کی روش پر ہونا چاہئے ۔
اس ملاقات کے شروع میں بین الاقوامی نہج البلاغہ فاؤنڈیشن کے چیرمین آیۃ اللہ دین پرور نے اس مرکز کی کارکردگی کی رپورٹ حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کی خدمت میں پیش کی ۔
 

اسوہ صبر و استقامت حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی وفات پر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی کی ایک تحریر

چودہ رجب کی رات اور پندرہ رجب سن ۶۲ ہجری نسابہ علائلی کی کتاب اخبار الزینبیات اور بعض دیگر تاریخی کتابوں کے مطابق حضرت زینب (س) کی وفات ہے ۔
ان کتابوں کے مطابق حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے کربلا کے دردناک واقعہ کے بعد اسیر ہوکر اپنی عظیم ذمہ داری نبھائی اور سخت ترین حالات میں آپ نے عاشورا کی تمام برکات کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دیا اور پھر حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے ساتھ مدینہ واپس آ گئیں ۔
مدینہ کے سیاسی حالات حضرت زینب(س) کے مدینہ میں قیام اور اہلبیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کی رفت و آمد کی وجہ سے ایسے لگتے تھے جیسے کوئی انقلاب برپا ہونے والا ہے ۔ جس کی وجہ سے والی مدینہ نے یزید کو اس خطرہ سے آگاہ کیا اور یزید نے حکم دیا کہ جناب زینب مدینہ کے علاوہ جس شہر کی جانب چاہیں ہجرت کر جائیں ۔
حاکم مدینہ نے یزید کا یہ حکم جناب زینب(س) کو سنایا لیکن آنحضرت(س) نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا لیکن بعض بنی ہاشم کے اصرار پر حضرت نے مصر کی جانب ہجرت کرنے کا ارادہ کیا اور ماہ شعبان سن ۶۱ ہجری میں آپ مصر پہنچیں جہاں لوگوں نے آپ کا گرمجوشی سے استقبال کیا یہاں تک کہ مصر کا والی مسلمۃ بن مخلد انصاری خود آپ کے استقبال میں پیشقدم تھا۔ پھر آپ رجب سن ۶۲ ہجری تک مصر میں قیام پذیر رہیں اور ۱۴ رجب سن ۶۲ ہجری کی رات میں وفات پا گئیں اور آپ کو مصر ہی میں دفن کر دیا گیا ۔ جہاں آج بھی آپ کا مزار ہے جس کی زیارت کے لئے لوگ دنیا کے کونے کونے سے آتے ہیں اور مصر کے لوگ اس کا بہت ہی احترام کرتے ہیں ۔ یہ بارگاہ اب تک کئی بار تعمیر و تجدید ہو چکی ہے ۔
آج بھی مصر میں پہلی رجب سے ۱۵ رجب تک دوستداران اہلبیت (ع) اور اس ملک تمام مسلمان حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی وفات کی یاد مناتے ہیں ۔ بعض نیوز رپورٹروں نے حقیر کے سامنے ایسی ویڈیو دکھائی ہیں جس میں اس مقام پرظاہر ہونے والی ایسی کرامات ہیں جنہیں انسان جب تک آنکھ سے نہ دیکھے قبول نہیں کر سکتا ہے ۔
بہر حال اہلبیت علیہم السلام کی عظمت اور حقانیت ان مقامات پر روشن ہوجاتی ہے اور لوگوں کے دل ان کی جانب خود بخود جذب ہو جاتے ہیں ۔ لیکن افسوس کے ایران کے شیعہ اس مزار مقدس کی زیارت سے محروم ہیں اور مملکت مصر کی زیارتگاہوں سے ان کا رابطہ نہیں ہے چونکہ مصر ہی میں راس الحسین (ع) کی زیارتگاہ ہے جس کے آثار وبرکات محتاج بیان نہیں ہیں نیز اسی ملک میں سیدہ نفیسہ کا مزار بھی ہے ۔
۱۵ رجب کو جناب زینب (س) کے وفات کی تاریخ بھی اسی بنیاد پر ہے کہ ان کا مزار مصر میں ہے اگر چہ شام میں
موجود روضہ حضرت زینب (س) بھی اپنی شان و جلالت و عظمت رکھتا ہے ۔ اہلبیت(ع) کی مزاروں کے متعلق یہ اختلاف بھی کسی فلسفہ کی بنیاد پر ہے جس کوکسی اور موقع پر بیان کیا جائے گا ۔
۱۴ رجب ۱۴۳۱
لطف اللہ صافی

 

جوان نسلوں کو اسلامی معارف کی تعلیم دینا بہت ضروری ہے : آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی

۲۸جون ۲۰۱۰ دوشنبہ کے دن حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے ٹرکی کے طلاب سے ملاقات کی ۔
معظم لہ نے اس ملاقات کے دوران حضرت زینب (س) کی وفات کے موقع پر تسلیت پیش کرتے ہوئے جناب زینب سلام اللہ علیھا کو تمام عالمین کی عورتوں کے لئے نمونہ عمل قرار دیا اور فرمایا : حضرت زینب (س) نے واقعہ کربلا میں بہت ہی اہم کردار ادا کیا اور اپنے خطبات و بیانات سے یزیدی ظلم و طغیان کو بے نقاب کر دیا ۔
مرجع عالیقدر نے حضرت زینب (س) کی قبر کے متعلق فرمایا : ایک احتمال یہ ہے کہ آپ کی قبر مصر میں ہو ، چونکہ شہر قاہرہ میں آپ کی مزار ہے جہاں رجب کی پہلی تاریخ سے آپ کے چاہنے والوں کا جم غفیر رہتا ہے جو آپ سے متوسل ہو کر اپنی مرادیں پاتے ہیں ۔ وہاں پر بہت سی کرامات بھی رونما ہوئی ہیں ۔ شام میں بھی آپ کی قبر ہے جس کی لوگ زیارت کرتے ہیں ۔
مرجع عالم تشیع نے ٹرکی کے طلاب کی تبلیغی اور اسلامی معارف کی ترویج کے سلسلے سے ان کی کارکردگیوں کو قابل قدر بتاتے ہوئے فرمایا : میں آپ لوگوں کی کارکردگی دیکھ کر بہت خوش ہوا ، کاش میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا اور اس با ارزش کام میں آپ لوگوں کا حصہ دار ہوتا ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے ولایت اہل بیت علیہم السلام کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلاب سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ کا تبلیغی سفر ،خدا و رسول اور قرآن کریم کی جانب سفر ہے ، آپ کی تبلیغی کارکردگی جہاد ہے لہذا آپ اپنے اس کام کی قدر کریں اور موقع غنیمت جانتے ہوئے معارف اہلبیت کی دنیا بھر میں ترویج کریں ۔
معظم لہ نے فرمایا :میں بھی آپ لوگوں کی توفیقات میں اضافے کی دعا کرتا ہوں اور اس بات کی امید کرتا ہوں کہ آپ اپنے رفتار و گفتار سے تمام لوگوں کو معارف اہلبیت(ع) اور اسلامی تعلیمات کی جانب دعوت دیں گے ۔
آپ نے فرمایا: مجھے اہلبیت (ع) کے پیرو ہونے پر فخر ہے ، ہمیں اہلبیت اطہار علیہم السلام کے معارف کی ترویج کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور ٹرکی میں اہلبیت علیہم السلام کی تعلیمات کے زیادہ سے زیادہ ترویج کرنی چاہئے اور اپنے وظیفہ کی بہتر ادائگی کرنی چاہئے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے فرمایا : ٹرکی کے لوگ اہلبیت عصمت و طہارت سے محبت رکھتے ہیں اس لئے آپ کو منطم طریقہ سے اس ملک میں اہلبیت علیہم السلام کی تعلمیات کو نشر کرنا چاہئے ۔
مرجع عظیم الشان نے ایران سے باہر دیگر ممالک میں ترویج دین اور تبلیغ کے کام کو اہم بتاتے ہوئے فرمایا : اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے اور معاشرے میں اہلبیت علیہم السلام کے معارف کی ترویج کرنی چاہئے ۔
حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی نے اس بات کی تاکید کی کہ جوان نسلوں کو معارف اہلبیت علیہم السلام سے آشنا کرنا چاہئے اور فرمایا : مکتب تشیع کے علاوہ کسی مکتب فکر میں ایسے بلند اور عظیم معارف نہیں ملیں گے ۔
آپ نے اپنی گفتگو کے دوسرے حصہ میں مولائے کائنات کے خطبات اور خطوط کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : امام علی علیہ السلام کے خطبات بہت ہی پر مغز ،علمی اور معرفت بخش ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام خطبوں کو لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے ۔

سوال