اسرار صلح امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام کی صلح ایک الٰہی فریضہ اور شرعی وظیفہ تھی جس کو ان حالات میں امام حسن علیہ السلام نے قبول کیا بہ الفاظ دیگر اس زمانے کے حالات نے امام کو صلح کرنے پر مجبور کیا ،اہلسنت کے یہاں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک صحیح حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے۱ کہ پیغمبر(ص) نے اس واقعہ کی خبر دی تھی اور اس میں امام حسن علیہ السلام کی سیادت اور اصلاح طلبی کی جانب بھی اشارہ کیا تھا ۔
ایسے حالات میں جب کہ صلح عام لوگوں کے حق میں ہو ،اگر طرفین ہٹ دھرمی سے کام لیں اور کینہ و حسد کا مظاہرہ کریں تو کبھی بھی صلح برقرار نہیں ہو سکتی ہے ، صرف اس صورت میں صلح واقع ہو سکتی ہے جبکہ طرفین حسن نیت رکھتے ہوں یا کسی ایک طرف کی نیت اچھی ہو اور وہ معاشرے کی مصلحت کو مد نظر رکھتا ہو اور اسے ذاتی مصلحت اور فائدے پر ترجیح دے، مد مقابل چاہے جتنا ہٹ دھرمی دکھائے وہ ایثار و فداکاری کا مظاہرہ کرے ۔
امام حسن علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان ہونے والی جنگ میں یقینا معاویہ ایسا نہ تھا جو مسلمانوں کی مصلحت کے پیش نظر حکومت ، خلافت اور اپنے ناپاک عزائم سے دستبردار ہو جاتا اور خلافت کو اس کے اہل کے سپرد کر دیتا ۔ وہ اپنے ناپاک اہداف تک پہنچنے کے لئے نہ خدا و رسول کو نظر میں لاتا نہ ہی مصلحت اسلام و مسلمین کو خاطر میں لاتا تھا بلکہ ہر چیز کو اپنی ریاست طلبی پر قربان کر دیا کرتا تھا ، اگر اسے اہل بیت علیہم السلام ، ان کے چاہنے والوں یا تمام مسلمانوں کا قتل بھی کرنا پڑتا تو وہ حکومت اور ریاست کی خاطر اس کام سے بھی دریغ نہ کرتا ۔ اگر چہ وہ کبھی کبھی چرب زبانی سے کام لیتا تھا لیکن اگر حکومت کو خطرہ لاحق ہو جاتا تو وہ اس چرب زبانی کو بھی پس پشت ڈال دیتا تھا ۔
ایسے حالات میں یقینا جو مسلمانوں کی مصلحت کی رعایت کرسکتا تھا وہ امام حسن علیہ السلام تھے ۔
امام حسن علیہ السلام کی یہ حکمت عملی ،امام کے منصب امامت اور آپ کے سوابق کو نظر میں رکھتے ہوئے ،قابل تعجب نہ تھی ،اگر امام مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر نہ رکھے تو اور کون اس کی رعایت کرے گا ؟
کسی بھی صورت معاویہ اور اس کے ماں باپ اور خاندان کے سوابق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ مسلمین کے مصالح کی رعایت کرے گا ۔
اس کے برخلاف امام حسن علیہ السلام سے اس کے سوا اور کوئی توقع نہیں کی جا سکتی تھی کہ وہ مصلحت مسلمین سے ہٹ کر کسی اور چیز کو نظر میں رکھیں گے ۔ چونکہ آپ آغوش نبوت کے تربیت یافتہ اور بیت وحی کے پروردہ تھے جہاں ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور چار جانب سے آپ کے نانا پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور نبوت، آپ کے باپ علی علیہ السلام کا نور امامت اور آپ کی والدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کا نور عصمت آپ کو اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا۔ آپ کا سینہ علوم پیغمبر(ص) کا مخزن تھا ،وحی کے نازل ہونے پر آپ سب سے پہلے ندائے وحی سننے والوں میں سے تھے اور آپ نے الٰہی کلمات کی تعلیم اپنے جد رسول خدا(ص) سے حاصل کی تھی ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو سیادت ، سرداری اور امت کی رہبری سے نوازا تھا اور اسلام کی بقا کی خاطر آپ کو اس جانثاری اور فداکاری کے لئے آمادہ کیا تھا اور آپ کے صلح کی برکات ،اہمیت اور عظمت کی قدردانی کی تھی ۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعدد مقامات پر امام حسن علیہ السلام کی روش کی تائید کی تھی جس طرح آپ کے باپ علی علیہ السلام کی مارقین و قاسطین و ناکثین کے ساتھ جہاد کرنے کی روش کو سراہا تھا اور امام حسین علیہ السلام کے تاریخی قیام اور کربلا میں آپ کی جانثاری او فداکاری کی تائید کی تھی ۔ اسی طرح آپ (ص) نے تمام ائمہ علیھم السلام کے زمانے میں واقع ہونے والے حوادث کی پیشین گوئی کرتے ہوئے ائمہ علیہم السلام کی روش کی تائید کی تھی ۔
لہذا یہ بات ثابت ہے کہ ان حالات میں امام حسن علیہ السلام کی صلح آپ کی شرعی تکلیف تھی اور یہ صلح آپ کے والد کے جہاد کی طرح اسلام و مسلمین کے حق میں تھی ۔
۱۔ اس حدیث کو بخاری نے چار جگہ ،ابوداؤد ،نسائی اور ترمذی نے سنن میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : إِنَّ ابْنِى هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ، میرا یہ فرزند سید و سردار ہے ،خداوند اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو عظیم گروہوں میں صلح برقرار کرے گا۔
اقتباس از کتاب" رمضان در تاریخ" تالیف حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی